تحریر شاہد حسین

ضلع کرم کے تقریباً ہر گھر میں لوگ مویشی پالتے ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں افراد کا روزگار بھی مویشیوں کی خرید و فروخت اور تجارت سے وابستہ ہے۔ پہاڑی اور قدرتی طور پر متنوع ضلع کرم ماضی میں مختلف اقسام کے جنگلی جانوروں کا مسکن بھی رہا ہے۔
کوہِ سفید کے پہاڑی علاقوں میں ماضی میں چیتا، ریچھ اور دیگر نایاب جنگلی جانور پائے جاتے تھے، تاہم موسمیاتی تبدیلی، بڑھتے درجۂ حرارت اور قدرتی ماحول میں تبدیلی کے باعث ان قیمتی جانوروں کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے اور بعض جانور اب صرف کہانیوں اور یادوں کا حصہ بن کر رہ گئے ہیں۔
انوائرنمنٹل سائنس کے استاد پروفیسر ڈاکٹر راہب حسین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی جانوروں کے قدرتی درجۂ حرارت کو متاثر کرتی ہے۔ ان کے مطابق ہر جانور ایک مخصوص درجۂ حرارت میں زندگی گزارنے کا عادی ہوتا ہے، لیکن جب گرمی یا سردی معمول سے زیادہ یا کم ہو جائے تو جانوروں کا قدرتی ماحول متاثر ہوتا ہے اور وہ مناسب ماحول کی تلاش میں اپنی رہائش گاہیں تبدیل کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر راہب حسین کے مطابق ماحول میں مسلسل تبدیلی کے باعث بعض جانوروں کی تعداد میں کمی واقع ہوتی ہے اور بعض انواع کے ختم ہونے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلی جانوروں کی افزائشِ نسل کو بھی متاثر کرتی ہے، جس کے باعث بچوں کی پیدائش میں کمی آتی ہے اور یوں جانوروں کی مجموعی تعداد متاثر ہوتی ہے۔
اسسٹنٹ ڈائریکٹر لائیو اسٹاک پاراچنار ڈاکٹر عنایت حسین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث جب گرمی بڑھتی ہے تو درجۂ حرارت اور ہوا میں نمی میں اضافہ ہو جاتا ہے، جس کے منفی اثرات مویشیوں کی صحت اور پیداوار پر پڑتے ہیں۔ ان کے مطابق شدید گرمی کے دوران جانوروں کی خوراک میں کمی، دودھ کی پیداوار میں کمی اور افزائشِ نسل کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر عنایت حسین نے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث مرغیوں کی انڈوں کی پیداوار بھی متاثر ہوتی ہے اور انڈوں کی تعداد میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی قلت کے باعث جانوروں کو مناسب اور صاف پانی دستیاب نہیں ہوتا، جبکہ بعض علاقوں میں جانور تالابوں یا آلودہ پانی سے پانی پینے پر مجبور ہوتے ہیں، جس سے مختلف بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پانی کی کمی سے جانوروں میں ڈی ہائیڈریشن کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے، جو گردوں سمیت دیگر اعضا کو متاثر کر سکتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں پیراسائٹس، بیکٹیریا اور مختلف متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے، جن میں بعض بیماریاں ایک جانور سے دوسرے جانور تک منتقل ہو جاتی ہیں۔ ڈاکٹر عنایت حسین کے مطابق پی پی آر اور دیگر بیماریوں کے پھیلاؤ سے مویشی پال حضرات کو معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے سیلاب اور شدید بارشوں کے حوالے سے کہا کہ غیر معمولی بارشیں اور سیلاب بھی مویشیوں کے لیے خطرناک ثابت ہوتے ہیں اور کئی مواقع پر جانور سیلابی ریلوں اور دیگر قدرتی آفات کے باعث ہلاک یا ضائع ہو جاتے ہیں۔
دوسری جانب مال مویشی منڈی میں گزشتہ چالیس سال سے کاروبار سے وابستہ کرم علی کا کہنا ہے کہ شدید گرمی اور سردی کے باعث جانوروں میں مختلف بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ ان کے مطابق چند سال قبل جانوروں میں اتنی زیادہ بیماریاں دیکھنے میں نہیں آتی تھیں، تاہم اب موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے باعث مویشی مختلف بیماریوں کا زیادہ شکار ہو رہے ہیں اور ان کی ہلاکتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ضلع کرم میں موسمیاتی تبدیلی نہ صرف جنگلی حیات بلکہ مویشیوں، دودھ کی پیداوار، افزائشِ نسل اور مویشی پال افراد کے معاشی حالات پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔ ماہرین نے صاف پانی کی فراہمی، جانوروں کی بروقت ویکسینیشن، بیماریوں کی نگرانی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے