تعلیم حاصل کرنے کا خواب

 تحریر رضوان محسود 

عاصمہ جب صبح صبح اپنی جونپڑی سے کچرے سے کباڑ چننے کے لیئے جاتی تو اسکی نظر سکول جانے والے بچیوں پر پڑتی تو اسکے دل میں خواہش اٹھتی کہ کاش وہ سکول پڑھتی لیکن غربت اور گھر کے قریب سکول نہ ہونے کی وجہ سے اسکی خواہش دل ہی دل میں رہ جاتی۔اسی اثنا جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے نوجوان محمد خان کی ڈیرہ اسماعیل خان میں ان خانہ بدوش بچیوں پر پڑی جو گھر گھر جاکر یاتو بھیک مانگتی یا کچرے سے کباڑ چنتی نظر آتی۔انکے ذہن میں خیال آیا کہ کیوں نا ان بچیوں کو اپنے بچوں کی طرح تعلیم کا حق دیا جائے تاکہ نہ صرف یہ اپنی تقدیر کو بدلیں بلکہ کئی سالوں کمپرسی کی زندگی گزارنے والوں کے حالات بدل سکیں۔تو انھوں نے اپنی مدد آپ کے تحت دریا کے کنارے خانہ بدوش آبادی کے قریب کرایے کے مکان میں سکول کا آغاز کیا۔بچیوں کو اس سکول میں فری تعلیم کے ساتھ ساتھ انکو کتابیں اور سکول ڈریس بھی دیا تاکہ انکے والدین پر مالی بوجھ نہ ہو اس حوالے سے کہا بچے اس پہلے گھر گھر جاکر بھیک مانگتے یا پھیر آوارہ گردی کرتے انکے لیئے سکول بنانے کا مقصد انکو پڑھائی کا بنیادی حق دینا ہے کیونکہ حکومت نے انکے لئے ابھی تک کچھ نہیں کیا توہم پر یہ فرض تھا کہ انکا خیال رکھیں پہلے ہم نے ایک سکول بنایا تھا اب دوسرا کیمپس بھی سٹارٹ کردیا ہے کیونکہ یہ خانہ بدوش دو جگہ آباد ہیں ہمارے دونوں کیمپس میں تیس سے زیادہ بچیاں زیر تعلیم ہیں اور انکی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ پشاور یونیورسٹی کی کی جانب سے خانہ بدوشوں پر کی گئی ایک تحقیق کے مطابق خانہ بدوشوں کی برادری چھ اقوام پر مشتمل ہے، مغل، مسلی، سمیجی، شاہ خیل، اعوان اور کٹانہ۔ اور مذہب کے اعتبار سے مکمل طور پر مسلمان ہے، جس میں 60 فیصد شیعہ اور 40 فیصد سنی شامل ہیں۔ یہ برادری اس وقت ایک عبوری مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں وہ نقل مکانی پر مبنی طرزِ زندگی سے مستقل رہائش کی طرف بڑھ رہی ہے خانہ بدوش سکول میں زیرتعلیم بچوں کے والدین کا کہناہے کہ انھوں نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ انکی بچیاں سکول جائیں گی انکی نسل در نسل ایسے ہی بغیر تعلیم کے چلی آرہی ہے لیکن اب انکی بچیاں تعلیم حاصل کرکے اپنے خاندان اور معاشرے کا روشن مستقبل بن رہی ہیں۔ خیبر پختونخوا میں خانہ بدوشوں کی کُل تعداد کے حوالے سے اعداد و شمار کو مہیا نہیں ہے تاہم پشاور یونورسٹی کی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ مردان میں 90 گھرانوں میں سے 17 مستقل طور پر آباد ہو چکے ہیں جبکہ باقی 73 اب بھی مختلف وجوہات کی بنا پر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ ان وجوہات میں سماجی و معاشی مسائل، موسمی حالات، جرائم، ناخواندگی اور قومی شناختی کارڈ کے حصول سے متعلق مسائل شامل ہیں۔ خیبر پختون خواہ کمیشن برائے خواتین کی ضلعی چیئرمین حمیرا نواز کا کہنا ہے کہ میری بھی کوشش ہے کہ ان بچیوں کی فری اعلی تعلیم کے لیئے راہ ہموار کرسکوں اس حوالے سے کام کررہے ہیں رہائشی انداز کی بنیاد پر اس آبادی کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: مستقل آباد اور مکانی طور پر متحرک خانہ بدوش۔ مستقل آباد افراد کی تعداد 119 ہے، جن میں 25 مرد، 28 خواتین اور 66 بچے شامل ہیں۔ یہ افراد مختلف گلیوں میں مستقل مکانات میں دیگر آباد آبادی کے ساتھ رہتے ہیں۔ اس کے برعکس، مکانی طور پر متحرک گروہ 384 افراد پر مشتمل ہے، جن میں 98 مرد، 92 خواتین اور 194 بچے شامل ہیں۔ یہ لوگ عارضی ڈھانچوں میں رہتے ہیں، جن میں 27 چھپر اور 46 خیمے شامل ہیں، جو ریلوے کی زمین یا مقامی افراد کی ذاتی زمینوں پر قائم کیے جاتے ہیں، اور اس کے عوض یہ لوگ لیز ہولڈرز یا زمین کے مالکان کو 1100 روپے کرایہ ادا کرتے ہیں۔ ان عارضی بستیوں میں قریبی رشتہ دار، خصوصاً بہن بھائی، ایک دوسرے کے قریب چھپروں یا خیموں میں رہتے ہیں، جسے مقامی زبان میں ''ڈھیرا'' کہا جاتا ہے۔سوشل ویلفیئر محکمے کے انچارج ممتاز خان کا کہنا ہے کہ خانہ بدوش بچیوں کی تعلیم کے لیئے ہمارے پاس ایسا کوئی خاص فنڈ موجود نہیں ہے جس سے انکی مدد کی جاسکے