21سالہ رانی (فرضی نام)جسکی شادی تین سال قبل ہوئی کچھ عرصہ تو گھر کے حالات اچھے تھے لیکن اولاد نہ ہونے کی وجہ سے ساس اور نندوں نے تنگ کرنا شروع کیا بات بات پر ڈانٹ اور گھر سے نکالنے کی دھمکیاں دی جانے لگی۔ماں بیٹے کے آتے ہی انکے کان بھرنا شروع کردیتی جسے رانی کا شوہر بنا کچھ سنے اپنی بیوی کو ڈاٹنے اور مارنے شروع ہوجاتا۔رانی جب میکے جاتی وہاں سے بھی اسکو واپس شوہر کے گھر جانے پر مجبور کیا جاتا۔رانی اپنی شکایت پولیس تھانے میں درج کرانے سے ڈرتی کیونکہ وہاں سارے مرد ہونے کی وجہ سے مزید پریشانی سے ڈرتی۔انہی دنوں محکمہ پولیس ڈیرہ اسماعیل خان میں خواتین پولیس ڈیسک کا قیام عمل میں لایا گیا۔جسکی خبر رانی تک پہنچی تو وہ اپنی شکایت لے کر پولیس سہولت مرکز میں قائم خاتون پولیس اہلکار کو اپنا مسلہ بتا دیا جس پر انھیں حوصلہ دیا گیا کہ انکی شکایت درج کردی گئی۔ریجنل پولیس آفیسر مبشر احمد میکن کے مطابق خواتین پولیس ڈیسک کے قیام کا اقدام اس لیے اہم تھاکیونکہ 18 لاکھ سے زائد آبادی والے اس ضلع کے 15 پولیس تھانوں میں اب تک خواتین عملہ موجود نہیں تھا، جس کی وجہ سے خواتین مار پیٹ، ہراسانی اور بلیک میلنگ جیسے معاملات مرد افسران کے سامنے بیان کرنے سے گریز کرتی تھیں انک مطابق ڈسپیوٹ ریزولیشن کمیٹی سنٹر، پولیس سہولت سنٹر، تھانہ سٹی اور تھانہ کینٹ میں خواتین ڈیسک قائم کر دیے ہیں۔
غیر سرکاری تنظیم سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (SSDO) نے خواتین کے خلاف تشدد کے حوالے سے اپنی تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ سال 2025 کے جنوری سے جون تک ملک بھر میں خواتین پر تشدد کے 20 ہزار 698 واقعات رپورٹ ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ واقعات پنجاب میں رپورٹ ہوئے، جہاں خواتین پر تشدد کے 15 ہزار 376 کیسز سامنے آئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پنجاب میں رپورٹنگ اور شکایات تک رسائی کا نظام دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہ فعال ہے۔
سندھ میں خواتین پر تشدد کے 3 ہزار 709 کیسز، خیبر پختونخوا میں 875 کیسز، اسلام آباد میں 423 کیسز جبکہ بلوچستان میں 315 کیسز ریکارڈ کیے گئے۔
ضلعی سوشل ویلفیئر آفیسر ممتاز خان کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان میں کچھ عرصہ قبل دارالامان قائم کیا گیا۔اب تک ہمارے پاس ایسے سات کیسسز آئے ہیں۔اس حوالے سے خواتین کا خیال رکھا جاتا ہے اور مکمل سہولیات دی جاتی ہیں ایڈوکیٹ مہوش محب کاکاخیل جو کہ خواتین پر گھریلو تشدد کے حوالے کیسسز ڈیل کرتی ہیں انکا کہنا ہے کہ خیبرپختون خواہ ایکٹ برائے گھریلو تشدد پاس ہوا ہے اس کے مطابق جو بھی خواتین پر تشدد کرتا ہے اسکی سزا ایک سے لے کر پانچ سال تک سزا ہے اسکے علاوہ اگر کسی خاتون کی کوئی ہڈی ٹوٹی ہوئی ہو اسکی علیحدہ سزا ہوتی ہے۔خیبر پختون خواہ کمیشن برائے خواتین کی ضلعی چیئرمین حمیرا نواز کہا کہنا ہے کہ خواتین کو انکے حقوق دلانے اور تشدد کی روک تھام کیلئے خواتین کو آگاہی دے رہے ہیں تاکہ خواتین پر گھریلوتشدد کو روکا جاسکے اور مناسب پلیٹ فارم پر آواز اٹھانے کی ترغیب دی جاسکے
