خیبرپختونخوا کے ضلع خیبر سے رواں سال کا دوسرا جبکہ ملک بھر کا آٹھواں پولیو کیس سامنے آ گیا ہے، جس کی تصدیق نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد نے کر دی ہے۔
محکمہ صحت کے مطابق تازہ ترین کیس تحصیل باڑہ کی یونین کونسل جانبازبی سے سامنے آیا ہے جہاں ایک 13 ماہ کی بچی میں پولیو وائرس کی موجودگی کی توثیق ہوئی ہے۔
اس نئے کیس کے بعد خیبرپختونخوا میں رواں برس پولیو سے متاثرہ بچوں کی کل تعداد 6 ہو گئی ہے، جن میں بنوں کے 3، ضلع خیبر کے 2 اور شمالی وزیرستان کا 1 کیس شامل ہے، جبکہ سندھ سے بھی 2 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔
وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ملک کے 97 منتخب اضلاع میں 2 سے 8 نومبر 2026 تک خصوصی انسدادِ پولیو مہم چلائی جا رہی ہے، جس کے تحت پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً 2 کروڑ 40 لاکھ بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
صحیتی حکام کا کہنا ہے کہ پولیو ایک عمر بھر کی معذوری کا باعث بننے والا نا قابل علاج مرض ہے جس سے صرف ویکسینیشن کے ذریعے ہی بچاؤ ممکن ہے۔
ای او سی نے والدین سے زور دے کر اپیل کی ہے کہ وہ ہر مہم کے دوران اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے لازمی پلوائیں اور ان کے حفاظتی ٹیکوں کا کورس بھی وقت پر مکمل کروائیں۔
