تحریر  شاہد حسین
ضلع کرم کی معیشت کا بڑا حصہ زراعت سے وابستہ ہے، جہاں مجموعی آبادی تقریباً 7 لاکھ 85 ہزار 434 نفوس پر مشتمل ہے اور بڑی تعداد میں لوگ کھیتی باڑی سے روزگار حاصل کرتے ہیں۔ ضلع کرم میں مختلف موسموں کے دوران تقریباً 13 فصلیں، 27 اقسام کی سبزیاں اور 22 اقسام کے میوہ جات پیدا کیے جاتے ہیں، تاہم حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث زرعی پیداوار اور باغات بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
کرم کے زمینداروں کا کہنا ہے کہ ماضی میں ضلع میں مختلف اقسام کے پھل، سبزیاں اور فصلیں وافر مقدار میں پیدا ہوتی تھیں، تاہم اب پیداوار میں نمایاں کمی آ گئی ہے۔ خاص طور پر سیب، آڑو، خوبانی اور چیری کے باغات، جبکہ ٹماٹر، کھیرا، ٹینڈا، گندم، لوبیا، سویابین اور مونگ سمیت دیگر فصلیں غیر متوقع موسمی حالات سے متاثر ہو رہی ہیں۔
اس حوالے سے پرنسپل ریسرچ آفیسر، ایگریکلچر ریسرچ سب اسٹیشن پاراچنار، ضلع کرم اقرار حسین نے بتایا کہ کرم میں زرعی پیداوار میں کمی کی ایک بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلیاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں کوہ سفید پر طویل عرصے تک برف موجود رہتی تھی، جس سے زیر زمین اور سطحی پانی کے ذخائر برقرار رہتے تھے، تاہم اب درجہ حرارت میں اضافے اور موسمی تبدیلیوں کے باعث برف تیزی سے پگھل رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بارشوں کے غیر متوقع نظام اور برف کے تیزی سے پگھلنے سے پانی زمین میں مناسب مقدار میں جذب نہیں ہو پاتا، جس کے باعث ٹیوب ویلوں اور کنوؤں میں پانی کی سطح کم ہو رہی ہے۔ پانی کی قلت کے باعث کسان فصلوں اور سبزیوں کو بروقت اور مطلوبہ مقدار میں آبپاشی نہیں کر پاتے، جس کا براہ راست اثر پیداوار پر پڑتا ہے۔
اقرار حسین کے مطابق بعض اوقات کئی مہینوں تک بارش نہیں ہوتی، جبکہ بعض اوقات معمول سے زیادہ بارشیں ہوتی ہیں۔ شدید بارشوں سے زمین کی اوپری زرخیز تہہ، جو تقریباً 7 سے 8 انچ تک ہوتی ہے، متاثر ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ کھیتوں میں پانی زیادہ دیر تک کھڑا رہنے سے غذائی اجزا زمین کی نچلی تہوں میں منتقل ہو جاتے ہیں، جسے لیچنگ کہا جاتا ہے، اور اس عمل سے زمین کی زرخیزی میں کمی آتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گرم موسم کے دوران زیادہ بارشوں سے فضا میں نمی بڑھ جاتی ہے، جس سے فصلوں، سبزیوں اور باغات میں فنگس اور بیکٹیریا سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ زیادہ نمی نقصان دہ کیڑوں کی افزائش میں بھی اضافہ کرتی ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف زرعی پیداوار کی مقدار بلکہ معیار بھی متاثر ہوتا ہے اور مارکیٹ میں قیمتیں بھی کم ہو جاتی ہیں۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے متعلق بات کرتے ہوئے ضلع کرم کے گاؤں شلوزان سے تعلق رکھنے والے زمیندار ناصر حسین نے بتایا کہ ان کی اپنی زرعی زمین اور باغات ہیں اور گزشتہ چند برسوں کے دوران موسمی حالات میں آنے والی تبدیلیوں نے ان کے باغات اور فصلوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سال میوہ جات کی پیداوار نہ ہونے کے برابر رہی۔
ناصر حسین کے مطابق غیر متوقع بارشوں، ژالہ باری، پانی کی قلت اور خشک سالی نے زراعت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ خاص طور پر سیب، آڑو، خوبانی اور چیری کے باغات میں پھول اور ننھے پھل بارش اور ژالہ باری سے متاثر ہوئے، جبکہ زیادہ نمی کے باعث فنگس اور دیگر بیماریوں میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اس سال زیادہ ژالہ باری کے باعث گندم کی فصل بھی بری طرح متاثر ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت لوبیا، سویابین اور مونگ کی فصلوں کو زیادہ بارشوں سے نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، جبکہ ٹماٹر، کھیرا اور ٹینڈے کے پودوں پر پھول گرنے اور باقی رہ جانے والے پھلوں کے سڑنے کا مسئلہ بھی پیدا ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق بعض بیماریوں اور مسائل کا اسپرے کے باوجود مکمل تدارک ممکن نہیں ہو رہا۔
دوسری جانب پاراچنار منڈی سے تعلق رکھنے والے آڑتی ناصر حسین نے بتایا کہ ضلع کرم سے آنے والی فصلوں، سبزیوں اور میوہ جات کی مقدار میں چند سالوں کے دوران نمایاں کمی آ گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں کرم کے مختلف علاقوں سے بڑی مقدار میں میوہ جات پاراچنار منڈی لائے جاتے تھے، تاہم اب مقامی پیداوار نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں جب کرم میں ٹماٹر کا موسم ہوتا تھا تو یہاں سے بڑی مقدار میں ٹماٹر پشاور، راولپنڈی اور کوہاٹ سمیت دیگر علاقوں کی منڈیوں میں بھیجے جاتے تھے، لیکن اب مقامی پیداوار میں کمی کے باعث یہ سلسلہ بھی متاثر ہو رہا ہے۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے اقرار حسین نے کسانوں کو زمین کی زرخیزی بہتر بنانے، گوبر اور نامیاتی کھاد کے استعمال، زیادہ سے زیادہ درخت لگانے اور فصلوں کی تبدیلی کے طریقہ کار پر عمل کرنے کا مشورہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ہی زمین پر ہر سال ایک جیسی فصل یا سبزی کاشت کرنے کے بجائے فصلوں کو تبدیل کیا جائے تاکہ بیماریوں اور نقصان دہ کیڑوں کے پھیلاؤ کا سلسلہ کم کیا جا سکے۔
زرعی ماہرین کے مطابق ضلع کرم میں اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں، جدید آبپاشی نظام، موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے کی صلاحیت رکھنے والی فصلوں اور پھلوں کی اقسام، باغات کے حفاظتی انتظامات، بروقت موسمی پیش گوئی اور کسانوں کی جدید خطوط پر تربیت کی ضرورت ہے۔
مختصراً، موسمیاتی تبدیلی اب ضلع کرم کے کسانوں، فصلوں، باغات اور دیہی معیشت کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے، جس کے اثرات کم کرنے کے لیے فوری اور مستقل اقدامات ناگزیر ہو گئے ہیں۔