چترال: اپر اور لوئر چترال میں گلیشیئر پھٹنے، کلاوڈ برسٹ اور موسلادھار بارشوں کے نتیجے میں آنے والے شدید سیلاب نے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ سیلابی ریلوں سے پل، سڑکیں، مکانات، دکانیں، ہوٹل، زرعی اراضی اور سرکاری و نجی املاک کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ دو افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔

تفصیلات کے مطابق بروز گول، گمبس گول، غیرت گول، شیشکوہ گاؤچ، شیشکوہ ٹنگل، کریم آباد، پرئیت گول، ریشن، کوراغ، چرون، بونی، اوی، پرواک، مستوج اور دیگر علاقوں میں شدید سیلابی ریلوں نے بنیادی ڈھانچے کو بری طرح متاثر کیا۔ کئی مقامات پر مکانات، دکانیں، ہوٹل اور سرکاری عمارتیں نقصان کا شکار ہوئیں، جبکہ متعدد گاڑیاں اور دکانوں کا سامان بھی سیلابی پانی میں بہہ گیا۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق سیلابی حادثات میں دو افراد جان کی بازی ہار گئے۔ ایک جاں بحق شخص کی شناخت کر لی گئی ہے، جبکہ دریائے چترال سے ملنے والی دوسری لاش کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی۔ مختلف علاقوں میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

بروز گول کے مقام پر سیلاب کے باعث چترال۔پشاور شاہراہ اور فائبر آپٹک لائن متاثر ہونے سے زمینی و مواصلاتی رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ تاہم ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی مشترکہ کوششوں کے بعد تقریباً 22 گھنٹوں میں شاہراہ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بحال کر دی گئی ہے، جبکہ فور جی، پی ٹی سی ایل اور دیگر انٹرنیٹ سروسز بھی بحال ہو چکی ہیں۔

دوسری جانب غیرت گول میں سیلاب کے بعد بننے والی عارضی جھیل (ڈیم) کے باعث دروش کے سید آباد کا علاقہ خطرے کی زد میں ہے، جہاں ہوٹل، گیس پلانٹ، دکانیں، دفاتر اور دیگر عمارتوں کو ممکنہ خطرات لاحق ہیں۔

شیشکوہ کے گاؤں گاؤچ کا واحد رابطہ پل سیلاب میں بہہ گیا، جبکہ اس سے قبل ٹنگل کا پل بھی سیلابی ریلے کی نذر ہو چکا تھا، جس کے باعث متعدد دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہے۔ علاوہ ازیں اپر چترال میں مختلف مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی ریلوں کے باعث کئی رابطہ سڑکیں تاحال بند ہیں، جبکہ متاثرہ علاقوں میں بحالی اور امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، دریاؤں اور ندی نالوں کے قریب جانے سے احتیاط برتیں اور صرف سرکاری اداروں کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں۔